Skip to content
English
English

پاکستانی شائقین کے لیے سری لنکا میں کرکٹ کی گائیڈ

سری لنکا میں کرکٹ دیکھیں: گال، آر پریماداسا، پالیکیلے اور مزید، 1996 کا لاہور فائنل، ٹکٹ، موسم اور پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے سفری مشورے۔

گال قلعے کی فصیل سے نظر آنے والا گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم

پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ کہانی ایسی ہے جس کا مقابلہ بہت کم ملک کر سکتے ہیں۔ سری لنکا نے اپنا واحد عالمی کپ 1996 میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں جیتا۔ اور دسمبر 2019 میں سری لنکا نے راولپنڈی میں وہ ٹیسٹ میچ کھیلا جو دس سال میں پاکستان میں ہونے والا پہلا ٹیسٹ تھا۔ پاکستانی شائقین کے لیے سری لنکا میں کرکٹ دیکھنا کسی دوست کے گھر جانے جیسا ہے۔

دیکھنے کے لائق میدان

گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم

گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم، سامنے قلعے کی دیواریں

دنیا میں بہت کم میدان گال جتنے خوبصورت ہیں۔ یہ اسٹیڈیم بحرِ ہند اور سترہویں صدی کے گال قلعے کی دیواروں کے درمیان واقع ہے، اور بغیر ٹکٹ والے شائقین فصیل پر چڑھ کر مفت میچ دیکھتے ہیں۔ اسپنرز کو یہ پچ بہت پسند ہے، اور یہاں ٹیسٹ میچ اکثر چوتھے یا پانچویں دن سنسنی خیز انداز میں ختم ہوتے ہیں۔

آر پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو

سری لنکا کا سب سے بڑا میدان زیادہ تر ڈے نائٹ میچوں اور محدود اوورز کے مقابلوں کی میزبانی کرتا ہے۔ فلڈ لائٹس میں یہاں کا ماحول پُرجوش اور خوشگوار ہوتا ہے۔

ایس ایس سی اور پی سارا اوول، کولمبو

سنہالیز اسپورٹس کلب کا میدان دارالحکومت میں سری لنکن ٹیسٹ کرکٹ کا گھر ہے، جبکہ پی سارا اوول ملک کا قدیم ترین ٹیسٹ وینیو ہے اور تاریخ سے بھرا ہوا ہے۔

پالیکیلے، کینڈی کے قریب

سبز پہاڑیوں میں گھرا پالیکیلے کینڈی سے تھوڑے فاصلے پر ہے، اس لیے آپ میچ کے ساتھ ٹیمپل آف دی ٹوتھ اور پہاڑی علاقے کی سیر بھی کر سکتے ہیں۔

دمبولا اور ہمبنٹوٹا

رنگیری دمبولا اسٹیڈیم سگیریا اور دمبولا کے غار مندروں کے قریب ہے۔ جنوب میں ہمبنٹوٹا کے قریب اسٹیڈیم یالا سفاری کے لیے اچھا ٹھکانہ ہے۔

میدان کا ماحول

سری لنکن تماشائی اپنے پاپارے بینڈز کے لیے مشہور ہیں، یعنی پیتل کے باجوں اور ڈھول والے گروپ جو سارا دن بائلا موسیقی بجاتے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے شائقین مل کر ناچتے ہیں، اور پاکستانی حامیوں کا گرمجوشی سے استقبال ہوتا ہے۔ اسٹیڈیم سے باہر ہر ساحل، اسکول کے میدان اور گلی میں ٹیپ بال اور سافٹ بال کرکٹ نظر آتی ہے۔ کسی کھیل میں شامل ہو جائیں، دوست فوراً بن جائیں گے۔

ٹکٹ اور وقت

  • ٹکٹ: سری لنکا کرکٹ کے سرکاری ذرائع سے یا میدان پر خریدیں۔ پاکستان یا بھارت کے خلاف بڑے میچوں کے ٹکٹ جلدی ختم ہو جاتے ہیں۔
  • موسم: گال اور کولمبو میں تقریباً مئی سے ستمبر تک جنوب مغربی مون سون رہتا ہے، اس لیے بارش میچ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ پالیکیلے اور دمبولا کے اپنے بارش کے موسم ہیں۔
  • گرمی: دن کے میچ گرم اور مرطوب ہوتے ہیں۔ ٹوپی، سن اسکرین اور خوب پانی ساتھ رکھیں۔

پاکستانی شائقین کے لیے عملی مشورے

  • پروازیں: سری لنکن ایئرلائنز کراچی اور لاہور سے کولمبو تک براہِ راست پروازیں چلاتی ہے۔ موجودہ شیڈول ضرور دیکھ لیں۔
  • ETA: پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو فی الحال مفت ETA ملتا ہے۔ سفر سے پہلے eta.gov.lk پر درخواست دیں۔
  • کھانا: حلال کھانا آسانی سے ملتا ہے، اور میدان میں لمبے دن کے بعد سری لنکن بریانی اور کوتو بہترین رہتے ہیں۔
  • آمد و رفت: کولمبو سے گال سدرن ایکسپریس وے کے ذریعے تقریباً 2 گھنٹے ہے۔ کولمبو سے کینڈی کار سے تقریباً 3 سے 4 گھنٹے لگتے ہیں۔
  • رقم: ایک امریکی ڈالر تقریباً 300 سری لنکن روپے کے برابر ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سری لنکا نے 1996 کا عالمی کپ کہاں جیتا؟

لاہور، پاکستان کے قذافی اسٹیڈیم میں، جہاں سری لنکا نے فائنل میں آسٹریلیا کو ہرایا۔ یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ بہت سے سری لنکن پاکستان سے قربت محسوس کرتے ہیں۔

کیا گال میں مفت کرکٹ دیکھی جا سکتی ہے؟

بہت سے شائقین گال قلعے کی دیواروں سے میچ دیکھتے ہیں، جو میدان کے اوپر واقع ہیں۔ مناسب نشست اور سہولیات کے لیے ٹکٹ خریدیں۔

سری لنکا میں کرکٹ دیکھنے کے لیے بہترین مہینہ کون سا ہے؟

گال اور کولمبو کے لیے دسمبر سے اپریل عموماً سب سے خشک ہوتا ہے۔ میچوں کا شیڈول ہر سال بدلتا ہے، اس لیے پہلے سری لنکا کرکٹ کا شیڈول دیکھ لیں۔

کیا پاکستانیوں کو سری لنکا جانے کے لیے ویزا چاہیے؟

پاکستانی شہریوں کو ETA درکار ہے، جو فی الحال مفت ہے۔ سفر سے پہلے eta.gov.lk پر آن لائن درخواست دیں۔